Facebook Twitter Gplus RSS
magnify
formats

ہنر نہیں قدر کی کمی ہے۔۔۔

وطن عزیز پاکستان کو خدا نے بے شمار قدرتی خزانوں اور تحائف سے نوازا ہے جن کا فائدہ اٹھاتے ہوئے ہم ترقی کی بیشتر منازل طے کر سکتے ہیں۔ ہمارے پاس کسی چیز کی کمی نہیں ، سب کچھ موجود ہے۔ اگر کچھ کمی ہے تو وہ صرف اور صرف ایمان کی کمی ہے۔ ہم بے ایمان ہو گئے ہیں جس کی وجہ سے ہمیں اپنے فائدے اور نقصان میں فرق سمجھ نہیں آتا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ ہم توانائی و دیگر بحرانوں میں گھرے چلے جارہے ہیں۔ ہمارے پاس ہنر کی کمی نہیں ہے قدر کی کمی ہے۔ ہمارے ملک کی عوام ملک کے لئے کچھ کرنا چاہتے ہیں مگر ان کو موقع نہیں دیا جاتاہے جس کی وجہ سے ہماری کوئی بھی نئی ایجاد مشہور ہونے سے پہلے ہی زوال اور خرابیوں کا شکار ہو جاتی ہے۔ ہمارے ملک کے بچے اور بوڑھے سب کے سب ذہین ہیں اور ملک کے لئے کچھ کرنا چاہتے ہیں۔ اگر پاکستان کے ذہین نوجوان بچوں کی بات کی جائے تو بابر اقبال، ارفع کریم، سکندر محمود بلوچ اور ان جیسے متعدد دیگر وہ نام ہیں جنہوں نے آئی ٹی کے شعبے میں پاکستان کا نام روشن کیا اور کئی ریکارڈ بنائے۔ ارفع کریم اب اس دنیا میں نہیں رہی مگراس نے پاکستان کے لئے نہ صرف ریکارڈز بنائے بلکہ بین الاقوامی آئی ٹی کمپنی مائیکرو سوفٹ کے ساتھ مل کر پاکستان کے لئے کام کیا۔ ان نوجوانوں کے علاوہ کئی اور نوجوان ہیں جنہوں نے ملک کے لئے کچھ نہ کچھ کیا مگر ایسے نوجوانوں کی میڈیا تک عدم رسائی کے باعث ہم ان سے انجان ہیں۔ ہمیں نوجوانوں میں چھپی خوبیاں تلاش کر کے انہیں ملکی مفاد میں استعمال کرنے کی ضرورت ہے۔

Read more…

 
 Share on Facebook Share on Twitter Share on Reddit Share on LinkedIn
2 Comments  comments 
formats

پاکستان میں آئی ٹی کا تعلیمی معیار

انفورمیشن ٹیکنولوجی (آئی ٹی) آج کے دور کی اہم ترین ایجاد ہے جس کا استعمال روز بروز بڑھتا جارہا ہے،زندگی کے ہر شعبے میں کسی نہ کسی انداز میں آئی ٹی کا استعمال ہو ہی رہا ہے۔ آئی ٹی کے استعمال میں اضافے کا اندازہ پاکستان میں موبائل صارفین کی بڑھتی ہوئی تعداد سے لگایا جاسکتا ہے۔ آج اگر ایک گھر میں پانچ افرادہیں تو موبائل فونز کی تعداد بھی اتنی ہی ہوتی ہے اور اب تو ایسے فون بھی مارکیٹ میں موجود ہیں جن میں دو دو سمز استعمال کرنے کی سہولت ہے، لوگوں نے اپنے استعمال کے لئے دو دو سمز رکھی ہوئی ہیں۔ پاکستان ٹیلی کمیونیکیشن اتھارٹی (پی ٹی اے ) کے مطابق ملک بھر میں موبائل فون صارفین کی تعداد 11 کروڑ سے تجاوز کرچکی ہے اور آئندہ سال موبائل فون صارفین کی تعداد میں مزید اضافہ ہوگا۔ 2010ء میں پاکستان میں موبائل فون صارفین کی اوسط تعداد اسٹھ اعشاریہ ایک فیصد تھی اور 2011ء میں یہ تعداد کافی بڑھ چکی ہے۔

Read more…

 
 Share on Facebook Share on Twitter Share on Reddit Share on LinkedIn
1 Comment  comments 
formats

کتب بینی کے عالمی دن کا انعقاد

کہتے ہیں کتابیں انسان کی بہترین دوست ہوتی ہیں۔ انسان جب کبھی بھی تنہا ہوتا ہے توایسے وقت میں کتابیں ہی انسان کا دل بہلاتی ہیں۔ کتابین انسان کی بہتریں دوست اور ساتھی ہی نہیں بلکہ معلومات کا خزانہ بھی ہیں۔ کتابوں سے دوستی میں اضافہ، اشاعتی اداروں کی حوصلہ افزائی اور کاپی رائٹس کے قوانین پر عمل درآمد کو یقینی بنا نے کے لئے دنیا بھر میں اقوام متحدہ کے ادارے یونیسکو کی اپیل پر 1995ء سے ہر سال باقاعدگی سے کتابوں اور کاپی رائٹس کا عالمی دن منایا جاتا ہے ۔ پاکستان میں بھی گزشتہ چند سالوں سے نیشنل بک فاﺅنڈیشن حکومتی سرپرستی میں 22 اپریل کو کتاب کا قومی دن مناتا ہے۔ اس دن کی مناسبت سے سرکاری اور غیرسرکاری اداروں کی طرف سے سیمینارز، کانفرنسیں، ریلیاں منعقد کی جاتی ہیں جبکہ اہم شاہراہوں اور پارکوں میں بینرز آویزاں کئے جاتے ہیں۔ مگر رواں سال یہ دن اتنی خاموشی سے گزرا کہ پاکستان کے ایک درجن سے زائد نامور ادیبوں، محققوں، دانشوروں اور پبلشرز کی محافل کہیں دیکھنے یا سننے تک میں نہیں آئیں۔ یہ حقیقت ہے کہ کوئی درسگاہ اور تعلیم یافتہ معاشرہ کتاب کی ضرورت سے بے نیاز نہیں رہ سکتا۔ کہتے ہیں کہ کتاب کا انسان سے تعلق بڑا پرانا ہے اور یہ انسان کے علم و ہنر اور ذہنی استعداد میں بھی بے پناہ اضافہ کرتی ہے اورخود آگاہی اور اپنے اردگرد کے حالات و واقعات کاادراک پیدا کرتی ہیں۔

Read more…

 
 Share on Facebook Share on Twitter Share on Reddit Share on LinkedIn
2 Comments  comments 
formats

تیل دار اجناس، ملکی زرمبادلہ کی بچت کا ذریعہ

Published on May 12, 2012 by in Agriculture

پاکستان زرعی اعتبار سے خداکے فضل و کرم سے کسی سے پیچھے نہیں، ہمارے ملک کی زمین نہایت زرخیز ہے جس کی بدولت کسان مٹی سے سونا اگلتا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ ملک کی آدھے سے زیادہ آبادی زراعت کے پیشے سے منسلک ہے۔ پاکستان میں کاشت کی جانے والی کپاس، چاول، چینی اور گنا دنیا بھر میں مشہور ہیں اور ملک کو ان فصلوں کی بدولت کروڑوں روپے کا قیمتی زرمبادلہ حاصل ہوتا ہے۔ اس کے باوجود پاکستان ہر سال ملکی خوردنی تیل کی ضروریات کو پورا کرنے کے لئے اربوں روپے کا خوردنی تیل بیرون ممالک سے درآمد کرتا ہے۔

دنیا بھر کے متعدد ممالک کی طرح پاکستان میں بھی میںخوردنی تیل کا استعمال روزمرہ زندگی میں سب سے زیادہ کیا جاتا ہے۔ پاکستان ملک میں تیل دار اجناس ( سرسوں، سورج مکھی، کنولہ) کی کاشت کو فروغ دے کر سالانہ اربوں روپے کے زرمبادلہ کو خرچ ہونے سے بچا سکتا ہے۔ پاکستان کا موسم تیل دار اجناس کی کاشت کے لئے مفید ہے مگر کنولہ، سرسوں اور سورج مکھی کے کاشت کوکپاس اور دیگر اقسام کی فصلوں کی طرح حکومتی سرپرستی حاصل نہ ہونے کی وجہ سے عام طور پر کاشتکار تیل دار اجناس کی کاشت سے کتراتے ہیں۔ پاکستان کی آبادی میں روز بروز اضافہ ہو رہا ہے جس سے خوردنی تیل کی ضروریات بھی بڑھ رہی ہیں۔

Read more…

 
 Share on Facebook Share on Twitter Share on Reddit Share on LinkedIn
1 Comment  comments 
formats

بائیو گیس، ماحول دوست ایندھن

Published on April 16, 2012 by in Energy

پاکستان ان دنوں توانائی کے بحران کا شکار ہے، جس کی وجہ سے عوام بجلی و گیس کی لوڈشیڈنگ کے مسائل سے دوچار ہے۔ صنعتیں، سی این جی اور گھریلو صارفین بجلی و گیس کی لوڈشیڈنگ سے شدید پریشان ہیں۔ گزشتہ چند سال سے بجلی اور گیس کی کمی نے کاروبار کو بھی سخت متاثر کیا ہے۔ ملک میں بجلی و گیس کے بحران کو 2 سے زائد سال ہو چکے مگر اس کے حل ہونے کے آثار دور تک دکھائی نہیں دیتے ہیں، اب عوام کو یہ اندازہ ہو چکا ہے کہ بجلی و گیس کے مسائل کو دور کرنے کے لئے خود ہی کچھ کرنا ہو گا۔ تاہم کچھ لوگوں نے متعدد انتظامات شروع کر دیئے ہیں۔ بعض لوگوں نے عارضی طور پر بجلی کی فراہمی کے لئے ڈیزل یا تیل سے چلنے والے جنریٹرز بازار سے خرید کر رکھ لئے ہیں اور کچھ لوگوں نے توانائی کے متبادل ذرائع شمسی توانائی، پن چکی یا بائیوگیس کا استعمال شروع کر دیا ہے۔

Read more…

 
 Share on Facebook Share on Twitter Share on Reddit Share on LinkedIn
1 Comment  comments 
formats

پانی، پیٹرول اور گیس کا متبادل

آج کل گیس و تیل کا بحران عروج پر ہے جس کے سبب سی این جی اسٹیشنز میں ہفتے میں دو سے تین دن لوڈشیڈنگ کی جارہی ہے جبکہ ایندھن کی کمی کے باعث پٹرول پمپس پر بھی پٹرول کی کمی ہے۔ یہی وجہ ہے کہ سی این جی اسٹیشنز اور پٹرول پمپس پر گاڑیوں کی قطاریں لگی رہتی ہیں۔ اب تو سی این جی اور پٹرول کی قیمتوں کو بھی آگ لگ گئی ہے۔ مستقبل میںسی این جی لوڈشیڈنگ کی لوڈشیڈنگ سے نجات حاصل کرنے اور سستی توانائی سے گاڑی چلانے کے لئے گیس یا پٹرول کی کمی کو دور کرنے یا پھر کوئی دوسرا متبادل استعمال میں لانے کی ضروری تھی۔ ایسے میں لاہور کے شہری ڈاکٹر غلام سرور نے پانی سے گاڑی چلاکر لوگوں میں سی این جی اور پٹرول کی لوڈشیڈنگ سے بچنے کی ایک امید پیدا کر دی ہے۔ ڈاکٹر سرور کی تیار کردہ واٹر کٹ ٹیکنولوجی کی بدولت گاڑی صرف ڈیڑھ لیٹر پانی سے 40 ہزار کلو میٹر کا فاصلہ 200 کلو میٹر فی گھنٹہ کی رفتار سے طے کرنے کی صلاحیت رکھتی ہے۔

Read more…

 
 Share on Facebook Share on Twitter Share on Reddit Share on LinkedIn
2 Comments  comments 
formats

پاکستانی ماہی گیری کی صنعت توجہ کی منتظر

پاکستان کا ماہی گیری کا شعبہ ملکی معیشت میں اہم مقام رکھتا ہے، ملکی زرعی شعبے کا جی ڈی پی میں 22 فیصد حصہ ہے جس میں سے ایک فیصد حصہ ماہی گیری کا ہے۔ پاکستان کی ساحلی پٹی سندھ اور بلوچستان کے علاقوں پر مشتمل ہے اور یہ 814 کلومیٹر سے زائد رقبے پر پھیلی ہوئی ہے۔ پاکستان میں سمندری ماہی گیری سے سالانہ ساڑھے 6 لاکھ ٹن سے زائد مچھلی پکڑی جاتی ہے جس میں سے 12 ارب روپے مالیت کی مچھلی اور دیگر سمندری خوراک یورپی یونین اور خلیجی ریاستوں سمیت امریکہ، جاپان، سری لنکا اور سنگاپور وغیرہ کو برآمد کی جاتی ہے جبکہ پاکستانی ماہی گیری کی صنعت سے 40 لاکھ سے زائد افراد کا روزگار وابستہ ہے جن میں سے 25 لاکھ کاتعلق سندھ سے ہے۔ ان علاقوں سے پکڑی جانے والی مچھلیوں میں مہاشیر، روہو، ملی (لانچی یا سائمن)، کھگہ، الیمفرٹ، ٹراﺅٹ، ساول، بام اور جھینگا نسلیں شامل ہیں۔
Read more…

 
 Share on Facebook Share on Twitter Share on Reddit Share on LinkedIn
2 Comments  comments 
formats

پاک ایران گیس منصوبہ: حائل رکاوٹیں

پاکستان تقریباً ڈھائی سال سے گیس کی کمی کے مسائل سے دو چار ہے جس کی وجہ سے سردیوں میں گیس کی لوڈشیڈنگ معمول بنتی جارہی ہے۔ گیس کی لوڈشیڈنگ کے باعث صنعتیں اور سی این جی خاص طور پر متاثر ہو رہے ہیں ۔ صوبہ پنجاب میں صنعتوں کو پانچ دن گیس کی لوڈشیڈنگ کی جا رہی ہے۔ گیس لوڈشیڈنگ کے باعث فیصل آباد میں 700 سے زائد صنعتی ادارے بند ہیںجس کے نتیجے میں یومیہ اجرت پر کام کرنے والے تین لاکھ مزدور بیروزگار ہوگئے ہیں،جن میں چالیس ہزار سے زائد خواتین مزدور بھی شامل ہیں۔ صنعتوں میں گیس کی لوڈشیڈنگ کے باعث مینوفیکچرنگ سیکٹر کا ماہانہ خسارہ چالیس کروڑ روپے تک پہنچنے کا خدشہ ہے۔ دوسری جانب سی این جی شعبے کی حالت بھی کوئی اچھی نہیں ہے ، ملک بھر میں سوائے صوبہ خیبر پختونخواہ کے باقی تمام صوبوں کے سی این جی اسٹیشنز کو ہفتے میں دو سے تین دن سی این جی کی فروخت بند کرنی پڑتی ہے۔ یہی وجہ ہے کے ہفتہ بھر سی این جی اسٹیشنز کے باہر گاڑیوں کی لمبی قطاریں لگی رہتی ہیں۔ سردیوں کے اختتام کے ساتھ گھریلو صارفین کچھ حد تک گیس کی لوڈشیڈنگ سے آزاد ہو گئے ہیں اور انہیں گیس کے مسائل کا سامنا نہیں، گزشتہ دنوں گھریلو صارفین بھی گیس کی قلت سے تنگ تھے۔

Read more…

 
 Share on Facebook Share on Twitter Share on Reddit Share on LinkedIn
1 Comment  comments 
formats

پلاسٹک کے لفافے: ماحول کی بربادی

دنیا بھر میں آلودگی تیزی سے پھیل رہی ہے اور اس کا ذمہ کسی نہ کسی حد تک خود انسان کے سرجاتا ہے۔ انسان نے اپنی آسانی کے لئے لاکھوں چیزیں بنائیںجبکہ ان کے منفی پہلوﺅں ہر توجہ نہ دی اور ، نتیجہ آج ہمیں آلودگی کی صورت میں بھگتنا پڑرہا ہے۔ انسان آسائشوں کو حاصل کرنے کی لالچ میں اتنا مگن ہوگیا کہ اسے اس بات کابھی اندازہ نہ ہوا کہ وہ اپنی تباہی کا ساماں خود بنا رہا ہے۔ دنیا بھر میں تمام تر اقدامات کے باوجود آلودگی کے مسائل بڑھتے ہی جارہی ہیں۔
دنیا بھر کے دیگر ممالک کی طرح ہمارا ملک پاکستان بھی آلودگی کے مسائل میں گھرا ہوا ہے۔ عالمی ادارہ صحت ڈبلیو ایچ او کے سروے کے مطابق پاکستان، ایران، بھارت اور منگولیا دنیا کے آلودہ ترین ممالک ہیں۔ پاکستان کے صوبہ بلوچستان میں واقع شہر کوئٹہ آلودہ ترین شہروں میں شمار کیا جاتا ہے۔ ملک میں آلودگی کی شرح بڑھنے کی وجہ حکومت اور عوام کا اس اہم مسئلے پر توجہ نہ دینا ہے۔ آلودگی کی وجہ سے ہر سال کروڑوں انسان موت کے منہ میں چلے جاتے ہیں۔
Read more…

 
 Share on Facebook Share on Twitter Share on Reddit Share on LinkedIn
1 Comment  comments 
formats

نینو ٹیکنولوجی کا رجحان

ٹیکنولوجی اور انسان کا ساتھ دنیا کی ابتدءسے ہے، یہ الگ بات ہے کہ ابتداءاور آج کی ٹیکنولوجی میں زمین آسمان کا فرق ہے۔ انسان نے درخت و دیگر اشیاءکو کاٹنے کے لئے کلہاڑی اور ایسے دیگر اوزار تیار کئے جو کہ انسان کی بنائی ہوئی ابتدائی ٹیکنولوجی تھی۔ آج دنیا جدید سے جدید تر ہوتی چلی جارہی ہے، سائنس اینڈ ٹیکنولوجی نے نہایت تیزی سے ترقی کی ہے اور نئی نئی چیزیں انسان کو مہیا کر دیں ہیں۔ انسان کمپیوٹر اور انٹرنیٹ کے ذریعے گھر میں بیٹھے بیٹھے ہزاروں سہولیات استعمال کر رہا ہے جبکہ دیگرخود ساختہ مشینوں کی بدولت کام منٹوں میں اور صرف ایک اشارے سے ہو جاتے ہیں۔
Read more…

 
 Share on Facebook Share on Twitter Share on Reddit Share on LinkedIn
5 Comments  comments 
formats

انٹرنیٹ: کتب بینی کے رجحان میں کمی کا باعث

آج کے جدید دور میں انٹرنیٹ دنیا بھر کے انسان کی ضرورت بن چکا ہے۔ اگر ہماری زندگی سے انٹرنیٹ کو نکال دیا جائے تو متعدد ضروریات زندگی خصوصاً روابط قائم رکھنا مشکل ہو جائے گا۔ انسان انٹرنیٹ کی دی ہوئے آسانیوں کا عادی ہو چکا ہے اوراب وہ ان کے بغیر نہیں رہ سکتا۔ اس بات کو اگر یوں کہا جائے کہ انٹرنیٹ انسانی زندگی کا اہم حصہ بن چکا ہے تو یہ غلط نہ ہوگا۔

ایک اندازے کے مطابق دنیا بھر میں تقریباً تین ارب سے زائد لوگ انٹرنیٹ سے جڑے ہوئے ہیں، صرف پاکستان کی بات کی جائے تو تقریباً دو کروڑ چار لاکھ اکتیس ہزارسے زائد لوگ انٹرنیٹ کا استعمال کرتے ہیں۔ پاکستان ایشیائی ممالک میں انٹرنیٹ استعمال کرنے کے حوالے سے آٹھویں نمبر پر آچکا ہے۔ اب تک پاکستان کے ایک ہزار آٹھ سو بارہ شہر انٹرنیٹ سے منسلک ہو چکے ہیں اور ان میں روزانہ اضافہ ہو رہا ہے۔ ایشیائی ممالک میں انٹرنیٹ کے حوالے سے چین، بھارت اور جاپان بالترتیب پہلے دوسرے اور تیسرے نمبر پر ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ دور حاضر میں انٹرنیٹ سروسز فراہم کرنے والی کمپنیز کے درمیان ایک جنگ کا سماںپیدا ہو گیا ہے اور یہ کمپنیز بہتر سے بہترین سروسز فراہم کرنے کی کوششوں میں لگی ہوئی ہیں۔

Read more…

 
 Share on Facebook Share on Twitter Share on Reddit Share on LinkedIn
3 Comments  comments 
formats

تھرکول ذخائر:توانائی کے بحران سے نجات کا ذریعہ

Published on February 25, 2012 by in Energy

پاکستان خدا کے فصل و کرم سے ایسے خطے میں واقع ہے جہاں بے شمار قدرتی ذ خائر پنہاں ہیں ۔ان قدرتی ذخائر کا استعمال کرتے ہوئے نہ صرف ملکی قرضے بلکہ حالیہ توانائی کے بحران کو بھی دور کیا جا سکتا ہے۔ بعض اوقات ہم جس چیز کی تلاش کر رہے ہوتے ہیں، وہ ہمارے پاس ہی موجود ہوتی ہے، بس اس چیز پر غور نہیں کیا جاتا۔ ہمارے ملک کے حکمران توانائی کے بحران کو دور کرنے کے لئے متعدد ممالک سے رجوع کر رہے ہیں، رینٹل پاور پلانٹ اور دیگر بین الاقوامی منصوبوں پر غور کر رہے ہیں جبکہ پاکستان کے اس توانائی کے بحران کو صوبہ سندھ میں واقع تھرکول ذخائر سے باآسانی پورا کیا جاسکتا ہے۔

Read more…

 
 Share on Facebook Share on Twitter Share on Reddit Share on LinkedIn
2 Comments  comments 
formats

اکیس فروری زبانوں کا عالمی دن

Published on February 25, 2012 by in general

زبان کسی بھی قوم کے لئے نہایت اہمیت کی حامل ہے۔یہ ناصرف جذبات کے اظہار و خیال کا ذریعہ ہے بلکہ اقوام کی شناخت بھی زبان سے ہی ہوتی ہے۔ پاکستان، ہندوستان، امریکہ، افریکہ، چین، روس، فرانس، جرمنی، ایران، اٹلی و دیگر ممالک کی اقوام کی اپنی علیحدہ زبانیں ہیں، جو کہ اقوام کے افراد کی نشاندہی کرتی ہیں۔ اسی طرح ہر ملک کی ایک قومی زبان ہوتی ہے جس سے ہر ملک کے افراد کی نشاندہی ہوتی ہے۔ مثال کے طور پر پاکستان کی قومی زبان اردو جبکہ ہندوستان کی قومی زبان ہندی ہے۔ ان دونوں ممالک کے افراد اپنی زبانوں سے پہچانے جاتے ہیں جبکہ دونوں ممالک کی قومی زبان کے علاوہ کچھ اور زبانیں بھی ہیں جیسے پاکستان میں بولی جانے والی زبانوں میں سندھی، بلوچی، پنابی، پشتو و دیگر اور ہندوستان میں بولی جانے والی زبانوں میںتامل، تیلوگ،کنادا، ملایالم، سنسکرت ودیگر۔

Read more…

 
 Share on Facebook Share on Twitter Share on Reddit Share on LinkedIn
3 Comments  comments 
formats

بی ٹی فصلیں: ملکی ضرورت یا بوجھ

Published on February 17, 2012 by in Agriculture

جنیاتی طریقے (جینیٹک انجینئرنگ) کے ذریعے تیار کی جانے والی فصلوں کو جی ایم فصلیں کہا جاتا ہے۔ ان فصلوں کی تیاری کے لئے عام سطح پر مطلوبہ جین ایک جاندار سے دوسرے جاندار میں منتقل کردیا جاتا ہے۔ مطلوبہ جین منتقل کرنے کے دو طریقے ہیں۔ پہلے طریقے میں جین گن (آلہ) استعمال کیا جاتا ہے۔ ایک پودے سے ڈی این اے اپنی تعداد بڑھا لیتا ہے، اس طرح جین منتقل ہو جاتا ہے۔ دوسرے طریقہ میں ایک بیکٹیریم استعمال کیا جاتا ہے جس کی مدد سے پودے میں مطلوبہ جین داخل کر دیا جاتا ہے اور وہ جنیاتی تبدیل شدہ پودا بن جاتا ہے۔
دنیا کے متعدد ممالک نے جی ایم فصلوں کو اپنایا مگر کہیں اس کے نتائج حوصلہ افزاءاور کہیں نقصان دہ برآمد ہوئے۔ 2004ء میں آسٹریلیا، ارجنٹائن، برازیل، بلغاریہ، کینیڈا، چائنہ، کولمبیا، جرمنی، انڈیا، انڈونیشیا، میکسیکو، فلپائن، رومانیہ، انگلینڈ، ساﺅتھ افریقہ، امریکہ، ہنگری، آسٹریا اور یوراگوئے نے بی ٹی فصلوں کو اپنایا مگر آج ان میں سے دیگر بائیو ٹیکنولوجی کے استعمال کو ترک کر چکے ہیں۔ انگلینڈ، فرانس، جرمنی، آسٹریلیا، ہنگری اور بلغاریا جیسے ممالک بی ٹی فصلوں کے استعمال کو ترک کر چکے ہیں۔

Read more…

 
 Share on Facebook Share on Twitter Share on Reddit Share on LinkedIn
5 Comments  comments 
formats

سمندری آلودگی، آبی حیات کی اموات کا باعث

Published on February 13, 2012 by in Environment

دنیا بھر میںآلودگی کے باعث انسانی اموات کا سلسلہ تیزی سے جاری ہے۔ انسان خود ہی اپنے ماحول کو آلودہ کر کے مرنے کا بندوبست کر رہا ہے، سب کچھ جانتے ہوئے بھی احتیاط نہیں کرتا۔ درختوں کی کٹائی، کوڑے کا ڈھیر، فیکٹریز، گاڑیوں و بسوں کا دھواں، سمندروں نہروں اور ندی نالوں میں فیکٹریز کے گندے پانی کا بہاﺅ یہ سب انسان خود ہی کر رہا ہے۔درختوں کا کٹاﺅ کر کے انسان خود آکسیجن کی کمی کر رہا ہے۔ دنیا میں روزانہ کروڑوں کی تعداد میں درختوں کا صفایا کر دیا جاتا ہے۔ آخر کیوں ہم آلودگی پھیلا رہے ہیں کیا ہمیں اپنی زندگی پیاری نہیں؟

آلودگی دنیا میں رہنے والی اقوام کے لئے سب سے بڑا مسئلہ ہے آلودہ ماحول انسان کی زندگی کے لئے خطرہ ہے، اس سے نجات انتہائی ضروری ہے۔ انسان آلودہ ماحول میں سانس لے کر اپنے جسم میں بیماریوں کو دعوت دیتا ہے۔دنیا میں ماحولیاتی آلودگی میں انتہائی اضافہ ہوتا جا رہا ہے جس پر قابو پانا نہ صرف انسان بلکہ زمینی و آبی جانوروں کی زندگیوں کے لئے بھی ضروری ہے۔

Read more…

 
 Share on Facebook Share on Twitter Share on Reddit Share on LinkedIn
2 Comments  comments 
formats

آن لائن بینکنگ کے رجحانات اور دھوکے

انٹرنیٹ نے انسان کے لئے روابط سمیت متعدد معاملات کو آسان بنا دیا ہے، یہی وجہ ہے کہ دنیا بھر میں انٹرنیٹ کا استعمال وقت گزرنے کے ساتھ ساتھ تیزی سے بڑھ رہا ہے۔ کاروباری و عام افراد کے لئے رقوم کی منتقلی و ادائیگی ایک بہت بڑا مسئلہ تھی، لوگوں کو بینکس کے چکر کاٹنے پڑتے تھے مگر اب انٹرنیٹ کی بدولت یہ تمام مسائل حل گئے ہیں۔ آن لائن بینکنگ کے ذریعے لوگ اپنے بنک اکاﺅنٹ کو خود اپنی مرضی سے استعمال کر سکتے ہیں۔ جیسے جب چاہیں انٹرنیٹ کا استعمال کرتے ہوئے رقم منتقلی، اکاﺅنٹ بیلنس چیکنگ، بینک اسٹیٹمنٹ، چیک کی تفصیلات، پہلے کی کی گئی ٹرانزیکشن، لون اسٹیٹمنٹ، رقم کی ادائیگی، رقم کی منتقلی اور بل پیمنٹ پروسیسنگ وغیرہ کی جاسکتی ہیں۔

Read more…

 
 Share on Facebook Share on Twitter Share on Reddit Share on LinkedIn
7 Comments  comments 
formats

انٹرنیٹ سروسز کی جنگ

انٹرنیٹ کا آغاز 60 کی دہائی میں ہوا اور یہ دیکھتے ہی دیکھتے سب لوگوں کی ضرورت بن گیا۔ آج اگر ہماری زندگی سے انٹرنیٹ کو نکال دیا جائے تو متعدد ضروریات زندگی خصوصاً روابط میں انسان کو سخت پریشانی کا سامنا کرنا پڑے گا، یعنی اب انٹرنیٹ انسانی زندگی کا اہم حصہ بن چکا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ دور حاضر میں انٹرنیٹ سروسز فراہم کرنے والی کمپنیز کے درمیان ایک جنگ کا سماںپیدا ہو گیا ہے اور یہ کمپنیز بہتر سے بہترین سروسز فراہم کرنے کی کوششوں میں لگی ہوئی ہیں۔ آج سے کچھ سال پہلے جب انٹرنیٹ کا آغاز ہوا تو صرف ایک ہی کمپنی یعنی مائیکرو سوفٹ ہوٹ میل کے نام سے انٹرنیٹ سروز فراہم کرتی تھی۔ پھر وقت گزرتا گیا اور یاہو نے انٹرنیٹ سروز کی فراہمی شروع کی جو کہ نہایت مقبول ہوئی اور یہ کمپنی تقریباً مائیکرو سوفٹ کے مد مقابل آپہنچی۔ ان نئی کمپنیز نے نہ صرف ای میل بلکہ کئی دوسری انٹرنیٹ سروسز فراہم کیں۔ آج کل تیزی سے ابھرتی ہوئی انٹرنیٹ کمپنی گوگل کو کہا جارہا ہے کیونکہ گوگل نہ صرف نہایت کم عرصے میں یاہو کو پیچھے چھوڑتی ہوئی مائیکرو سوفٹ کے مد مقابل آ چکی ہے بلکہ یہ متعدد نئی سروسز بھی فراہم کر رہی ہے۔ گوگل کی سروسز میں جی میل۔ انٹرنیٹ وائس چیٹ، چیٹنگ ، گوگل ریڈر، گوگل کروم ، گوگل ایڈ سینس، بلوگ اسپوٹ اور حال ہی میں آغاز ہونے والا گوگل پلس شامل ہے۔

Read more…

 
 Share on Facebook Share on Twitter Share on Reddit Share on LinkedIn
5 Comments  comments 
formats

ٹیلی کوم شعبے کی کامیابی

پاکستان کا ٹیلی کوم شعبہ دنیا کے کامیاب ترین شعبوں میں سے ایک شمار کیا جاتا ہے۔ اس شعبے میںگزشتہ سالوں وسیع پیمانے پر سرمایہ کاری ہوئی ہے جس سے ایک تو لوگوں کو رابطے میں آسانی کا ذریعہ میسر آیا اور دوسری جانب ٹیلی کوم کمپنیز کو بہت بڑے پیمانے پر منافع بھی ہوا۔ پاکستان کا یہ شعبہ انقلاب کی نوید سنا رہا ہے۔ ٹیلی کوم شعبہ 90 کی دہائی تک اس قدر پسماندہ تھا کہ نیا فون کنکشن لینے کے لئے کئی سال پہلے درخواست دینا پڑتی تھی اور بازاوقات تو درخواست دینے والا فون کے انتظار میں ہی اس دنیا سے رخصت ہوجاتا تھا، مگر آج صورتحال اس سے بالکل مختلف ہے۔ آج اگر ایک گھر میں پانچ افرادہیں تو موبائل فونز کی تعداد بھی اتنی ہی ہوتی ہے اور اب تو ایسے فون بھی مارکیٹ میں موجود ہیں جن میں دو دو سمز استعمال کرنے کی سہولت ہے، لوگوں نے اپنے استعمال کے لئے دو دو سمز رکھی ہوئی ہیں۔ اگر ہر شخص کے پاس ایک یا دو موبائل بھی ہوں تو ملک میں ابھی سات سے 14 کروڑ نئے صارفین کی گنجائش موجود ہے۔ پاکستان ٹیلی کمیونیکیشن اتھارٹی (پی ٹی اے ) کے مطابق ملک بھر میں موبائل فون صارفین کی تعداد 10 کروڑ سے تجاوز کرچکی ہے اور آئندہ سال موبائل فون صارفین کی تعداد میں مزید اضافہ ہو گا۔ 2010ء میں پاکستان میں موبائل فون صارفین کی اوسط تعداد اسٹھ اعشاریہ ایک فیصد تھی اور 2011ء میں یہ تعداد کافی بڑھ چکی ہے۔

Read more…

 
 Share on Facebook Share on Twitter Share on Reddit Share on LinkedIn
2 Comments  comments 
formats

گیس نہیں تو بائیو گیس ہی سہی

آج سے ٹھیک دو سال پہلے پاکستان میں گیس کے بحران کا نام تک لوگوں کے ذہن وگمان میں نہیں تھا مگر اب گیس کے حوالے سے حالات اس قدر خراب ہو چکے ہیں کہ گیس برائے نام ہی دستیاب ہے۔ صنعتیں،گھریلو صارفین، سی این جی یا پھر بجلی گھر کہیں بھی گیس دستیاب نہیں ہے۔ گیس کی لوڈشیڈنگ کے باعث صنعتیں پاکستان سے بند ہو رہی ہیں۔ صنعتکار پاکستان سے اپنی صنعتیں بنگلہ دیش یا پھر کسی دوسرے ملک منتقل کر رہے ہیں۔ گھریلو صارفین کو گیس صرف اتنی دستیاب ہے کہ چولہ ہلکی آنچ پر جلتا رہے، اس گیس سے نہ تو روٹی بنتی ہے اور نہ سالن۔۔۔ بس دل جلتا ہے اور بل بنتا ہے۔ سی این جی کی صورتحال تو انتہائی خراب ہے گیس سے چلنے والی گاڑیوں کی قطاریں سی این جی اسٹیشنز کے باہر لگی ہی رہتی ہیں۔ Read more…

 
 Share on Facebook Share on Twitter Share on Reddit Share on LinkedIn
5 Comments  comments 
formats

انٹرنیٹ ایک عالمی گاﺅں

آج دنیا جدید ٹیکنولوجی اور انٹرنیٹ کی بدولت (گلوبل ولیج) عالمی گاﺅں میں تبدیل ہوگئی ہے۔ ذرائع مواصلات (ٹیلی کمیونیکشنز وغیرہ) کی بے پناہ ترقی کی بدولت دنیا کے تمام ممالک ایک دوسرے کے اس قدر قریب ہو گئے ہیں کہ ان کے درمیان سیکڑوں، ہزاروں کلومیٹرزکے زمینی فاصلوں کی اہمیت ختم ہو گئی ہے۔ اب ٹیکنولوجی کی بدولت دنیا کے کسی بھی دوردراز علاقے میں بیٹھے شخص سے ایسے رابطہ یا بات چیت ممکن ہے جیسے وہ آپ کے پاس بیٹھا ہو۔ ٹیکنولوجی نے واقعی دنیا کو ایک عالمی گاوں بنا دیا ہے، جہاں ہر شخص کو دوسرے تک بہ آسانی رسائی حاصل ہے۔

 انٹرنیٹ کی ایجاد امریکی لیونارڈ کلین راک نے 29 اکتوبر 1969ء میں کی تھی، انٹرنیٹ کی ایجاد اصل میں انٹیلی جنس مقاصد کیلئے کی گئی تھی لیکن بعد میں اسکا استعمال معلومات کے حصول، پیغامات کی ترسیل، ڈیٹا اور دیگر مقاصد کیلئے بھی ہونے لگا۔ آج کے دور میں انٹرنیٹ انسانی زندگی کی ترقی کیلئے ایک اہم جزو سمجھا جاتا ہے۔ انٹرنیٹ نے وقت گزرنے کے ساتھ ساتھ جہاں ڈاک کے ذریعے خط و کتابت کی اہمیت پر اثر ڈالا وہیں نئی نسل کے مطالعے کی عادت کو بھی بدل دیا، پہلے جہاں کتابیں ذوق شوق سے پڑھی جاتی تھیں وہاں انکی جگہ انٹرنیٹ پر دستیاب معلومات نے لے لی اور آج مصنفین اپنی کتابیں انٹرنیٹ پر بھی جاری پڑتے ہیں۔

Read more…

 
 Share on Facebook Share on Twitter Share on Reddit Share on LinkedIn
6 Comments  comments 
formats

انٹرنیٹ ایک جائزہ

کمپیوٹر اورانٹرنیٹ نے روابط کو اتنا آسان بنا دیا ہے کہ پوری دنیا سمٹ کر ایک گاﺅں یعنی گلوبل ویلج کی حیثیت اختیار کر چکی ہے۔ اب ہر کوئی ایک ہی جگہ بیٹھے انٹرنیٹ کے ذریعے دنیا بھر کی معلومات حاصل کر کے اپنے علم میں اضافہ کر سکتا ہے۔ انٹر نیٹ نظام ایک گلوبل نظام ہے جس میں سینکڑوں ملین کمپیوٹر آپس میں ایک دوسرے سے منسلک ہیں اور یہ تمام وقت ایک دوسرے سے رابطہ قائم کئے ہوئے ہیں۔

انٹرنیٹ 60 کی دہائی میں امریکہ کے چند صاحبِ بصیرت لوگوں کی کوشش کا نتیجہ ہے، جن کا خیال تھا کہ کمپیوٹر کے ذریعے تحقیق، سائنس اور فوجی معلومات کے میدان میں مطلوبہ معلومات ایک کمپیوٹر سے دوسرے کمپیوٹر تک بھیجی جا سکتی ہیں۔ 1962ء میں ایم آئی ٹی سے منسلک جے سی آر لیک لائیڈر نے سب سے پہلے گلوبل کمپیوٹر نیٹ ورک کا منصوبہ تجویز کیا اور اسی سال ایک نئے ادارے ڈیفنس ایڈوانس ریسرچ پراجیکٹس ایجنسی (ڈارپا) کے سربراہ کے طور پر اس منصوبے پر کام شروع کردیا۔

Read more…

 
 Share on Facebook Share on Twitter Share on Reddit Share on LinkedIn
5 Comments  comments 
formats

گیس کا بحران یا دردسر

Published on December 17, 2011 by in Energy

وطن عزیز پاکستان ایسے خطے میں واقع ہے جہاں متعدد اقسام کے قدرتی ذخائر پائے جاتے ہیں، جن کا فائدہ اٹھاتے ہوئے نہ صرف ملکی ضروریات بلکہ ذخائر کو بیرون ممالک کوفروخت کر کے قیمتی زرمبادلہ کمایا جا سکتا ہے۔ اس کے باوجود پاکستان آج متعدد بحران خاص کر بجلی اور گیس کے بحران میں گھرا ہوا ہے اورمستقبل میں ان سے نکلنے کے کوئی آثار دکھائی نہیں دیتے۔ ملک میں بجلی کا بحران تو عوام کی پریشانی کا سبب تھا ہی اب سردی میں اضافے کے ساتھ ساتھ گیس کا بحران بھی شدید ہوتا جارہا ہے۔ ملک بھر میں گیس کی لوڈشیڈنگ اور کم دباﺅ کی وجہ سے لوگوں کو سخت مشکلات کا سامنا ہے۔ گیس کی لوڈ شیڈنگ سے ملک بھر کی صنعتوں سے وابستہ ہزاروں افراد کی معاشی سرگرمیاں بھی معطل ہوگئی ہیں جبکہ سیمنٹ، کھاد اور بجلی سمیت دیگر مصنوعات کا بھی بحران وقت کے ساتھ پیدا ہو رہا ہے۔
Read more…

 
 Share on Facebook Share on Twitter Share on Reddit Share on LinkedIn
7 Comments  comments 
formats

جنگلات کا بے دریغ کٹاﺅ

Published on December 11, 2011 by in Environment

جنگلات اور انسان کا ساتھ دنیا کی ابتداءسے ہی ہے۔ پہلے انسان جنگلات اور غاروں میں رہتا تھا جبکہ غذائی ضروریات جنگلات میں موجود پھل، بیج اور جڑی بوٹیوں وغیرہ کو کھا کر پورا کرتا تھا۔ پھر انسان نے ترقی کی اور درختوں کو کاٹ کر اسی جگہ مٹی و پتھر کے گھر بنا کر رہنے لگا۔ بس انسان نے یہی غلطی کی جس کا خمیازہ ہمیں آج ماحولیاتی آلودگی کی صورت میں بھگتنا پڑھ رہا ہے۔ ماحولیاتی آلودگی موجودہ دور میں انسان کو درپیش بڑے خطرات میں سے ایک ہے۔ آج انسان دوسرے سیاروں پر زندگی کے آثار ڈھونڈنے میں مگن ہے اور اس پر اربوں، کھربوں ڈالر خرچ کر رہا ہے جبکہ ماحولیاتی آلودگی سے نجات اور جنگلات کے کٹاﺅ کو روکنے کے لئے کوئی خاطر خواہ انتظامات نہیں کیئے جارہے۔

Read more…

 
 Share on Facebook Share on Twitter Share on Reddit Share on LinkedIn
6 Comments  comments 
formats

سوشل میڈیا کا مثبت استعمال

سوشل میڈیا سے مراد انٹرنیٹ بلوگز، سماجی روابط کی ویب سائٹس، موبائل ایس ایم ایس اور دیگر ہیں جن کے ذریعے خبریں اور معلوماتی مواد کو فروغ دیا جاتا ہے۔ آج کے دور میں سوشل میڈیا کی اہمیت سے انکار نہیں کیا جا سکتا۔ اس کی اہمیت میں دن بدن اضافہ ہو رہا ہے۔ روایتی میڈیا سے تعلق رکھنے والے صحافی اور دیگر کاروباری  افراد معلومات کو عوام تک پہنچانے کے لیے بڑی تعداد میں سوشل میڈیا سائٹس جیسے فیس بک ، ٹوئٹر، مائی اسپیس، گوگل پلس ، ڈگ اور دیگر سے جڑے ہوئے ہیں۔ سوشل میڈیا الیکٹرونک اور پرنٹ میڈیا سے بھی زیادہ تیزی سے مقبول ہو رہا ہے۔ اس کی سب سے بڑی وجہ عوام کا سوشل میڈسے منسلک ہونا ہے۔ اس الگ میڈیا میں خبروں اور معلومات کو تلاش کرنے کی ضرورت نہیں بلکہ معلومات کا ذخیرہ آپ تک خود بخود بذریعہ ای میل اور انٹرنیٹ بلوگ پوسٹس پہنچ جاتا ہے، آپ کو صرف کسی بھی بلوگ یا سائٹ میں اندراج کی ضرورت ہے۔ ایک چھوٹی سے چھوٹی خبر کو مقبول کرنے کے لئے کسی بھی سوشل سائٹ میں صرف ایک پوسٹ شیئر کرنے کی ضرورت ہے پھر یہ خود بخود ایک سے دوسرے اور دوسرے سے تیسرے فرد تک پہنچ جائے گی۔ انفورمیشن ٹیکنولوجی نے انسان کو اتنا ترقی یافتہ بنا دیا ہے کہ انسان اپنا وقت ضائع کئے بغیر کہیں بھی بیٹھے بیٹھے پوری دنیا سے سوشل میڈیا کے ذریعے میل جول رکھ سکتا ہے۔

Read more…

 
 Share on Facebook Share on Twitter Share on Reddit Share on LinkedIn
4 Comments  comments 
formats

نوبل انعام یافتہ واحد پاکستانی ڈاکٹر عبدالسلام

ماضی میں نہایت قابل لوگوں نے پاکستان میں کام کیا اور آج بھی کر رہے ہیں، یہی وجہ ہے کہ ہائیر ایجوکیشن کمیشن، اٹومک انرجی کمیشن اور جامعہ کراچی جیسے ادارے آج بھی اپنی پوری لگن کے ساتھ کام کر رہے ہیں۔ پاکستان سے تعلق رکھنے والی شخصیات ہی ہیںجن کی سائنسی کاوشوں کو بین الاقوامی سطح پر گردانا گیا۔ ان شخصیات میں ایک نام ڈاکٹر عبدالسلام کا بھی ہے۔ ڈاکٹر عبدالسلام وہ پہلے اور واحد پاکستانی ہیں جنہوں نے فزکس میں نوبل انعام جیتا۔

ڈاکٹر عبدالسلام 1926ء میں پاکستان کے شہر جھنگ جو اس وقت کے برطانیہ ہندوستان کا حصہ تھا میں پیدا ہوئے۔ ان کے والد محکمہ تعلیم میں تعلیمی افسر اور والدہ گھریلو خاتون تھیں، ان کے چھ بھائی اور ایک بہن تھی۔ ڈاکٹر عبدالسلام کا خاندان غریب تھا اور انھوں نے کبھی یہ تصور نہیں کیا تھا کہ انھیں بیرون ملک تعلیم کا موقع ملے گا۔ ڈاکٹر عبدالسلام نے میٹرک میںسب سے زیادہ نمبر حاصل کیئے تب ان کی عمر صرف 14 سال تھی۔ ڈاکٹر صاحب نے گورنمنٹ کولج لاہو ر سے گریجویشن مکمل کی۔ انہوں نے 1946ء میں گورنمنٹ کولج یونیورسٹی لاہور سے ایم اے میتھ میٹکس کی ڈگری حاصل کی ، انہیں اسی سال گورنمنٹ کولج یونیورسٹی لاہور سے کیمبرج یونیورسٹی کا وظیفہ بھی ملا۔ 1949ء میں ڈاکٹر عبدالسلام کیمبرج یونیورسٹی چلے گئے اور یہاں بی اے ڈبل فرسٹ کلاس اونر (میتھ میٹکس، فزکس) کی ڈگری حاصل کی۔ 1950ء میں ڈاکٹر عبدالسلام کو کیمبرج یونیورسٹی کی طرف سے فزکس کے شعبے میں نمایاں خدمات کے اعتراف میں (اسمتھس پرائسز) سے نوازا گیا۔ ڈگری مکمل کرنے کے بعد بھی ڈاکٹر صاحب نے کیونڈس لیبارٹری میں تحقیقاتی کام شروع کیارتھر فورڈ نے Read more…

 
 Share on Facebook Share on Twitter Share on Reddit Share on LinkedIn
9 Comments  comments 
formats

فیس بک کے مقابل سائٹ کی ضرورت

یہ دور انفو ٹیلی کمیونیکیشن کا دور ہے جس میں تمام لوگ سوشل میڈیا کے ذریعے ایک دوسرے سے جڑے ہوئے ہیں۔ ویسے تو متعدد ویب سائٹس جیسے ٹوئیٹر،مائی اسپیس و دیگر کا استعمال سماجی روابط قائم کرنے کے لئے ہوتا رہا ہے مگر ان سب میں خاص مقبولیت حاصل کرنے والی سائٹ فیس بک ہے۔ فیس بک کا افتتاح 4 فروری 2004ء کو مارک زکربرگ نے اپنے روم میٹس کے ساتھ مل کر کیا۔ شروع میںیہ سائٹ صرف ایک ملک تک محدود تھی مگر آہستہ آہستہ بین الاقوامی سطح پر استعمال ہونے لگی۔ آج اس سائٹ کے 8 ملین سے زائد صارفین ہیں اور ان میں روزانہ اضافہ ہو رہا ہے۔ دنیا بھر میں فیس بک بے حد مقبول ہو چکی ہے اور ہر کوئی اس سماجی رابطے کی سائٹ کا استعمال کر رہا ہے۔ پوری مسلم دنیا کے تیئس سے چوبیس کروڑ مسلمان فیس بک استعمال کرتے ہیں، صرف پاکستان کی بات کی جائے تو 25 سے 30 لاکھ سے زیادہ پاکستانی اس سائٹ کا استعمال کرتے ہیں۔

Read more…

 
 Share on Facebook Share on Twitter Share on Reddit Share on LinkedIn
6 Comments  comments 
formats

انٹرنیٹ برا نہیں

انسان ترقی کی جانب تیزی سے گامزن ہے اور انٹرنیٹ اس کی بہترین مثال ہے۔ انٹرنیٹ نے انسانی روابط کو اتنا آسان بنا دیا کہ اب ہم صرف چیٹ ہی نہیں بلکہ وائس چیٹ اور ویڈیو چیٹ بھی کر سکتے ہیں۔ انسان سات سمندر پار ہی کیوں نہ بیٹھا ہو باآسانی انٹرنیٹ کے ذریعے کبھی بھی کسی سے بھی بات کی جا سکتی ہے۔ انٹرنیٹ نے جدید سوفٹ ویئزر اور دیگر چیزوں کی معلومات کو آسان بنا دیا ہے۔ انٹرنیٹ پر موجود تقریباً تمام سائٹس سے کچھ نہ کچھ معلومات ضرور حاصل ہوتی ہیں۔ آج کل تو معلومات کی فراہمی اور مواد کو ذخیرہ کرنے کے لئے انٹرنیٹ بلوگز کا بھی استعمال کیا جا رہا ہے۔ یہ بلوگز ٹی وی میڈیا سے بھی بہت زیادہ تیز ہیں، کیسی ہی معلومات ہوں آپ ان پر پوسٹ کر دین چند ہی سیکنڈ میں بات دورتک مشہور ہو جائے گی۔ اس کے علاوہ فیس بک اور دیگر سماجی روابط کی ویب سائٹس کی بدولت سوشل میڈیا ایک بڑے اور منظم گروح میں تبدیل ہو چکا ہے۔ یہی نہیں انٹرنیٹ کی بدولت گھر بیٹھے بیٹھے خریداری اور کسی بھی چیز کی مشہوری کی جا سکتی ہے۔ انسان گھر بیٹھ کر انٹرنیٹ سے ہزاروں روپے روزانہ کما سکتا ہے۔ یہ سارے فائدے انٹرنیٹ کے بغیر انسان کو ملناایک خواب کی طرح تھا۔ پھر ہم انٹرنیٹ کو برا کیوں کہتے ہیں؟
Read more…

 
 Share on Facebook Share on Twitter Share on Reddit Share on LinkedIn
4 Comments  comments 
formats

الیکٹرونک ویسٹ، ماحول کی تباہی

Published on November 11, 2011 by in Environment

انسان پہلے جنگلوں اور غاروں میں رہتا تھا پھر اس نے ترقی کرتے ہوئے جنگلات کو کاٹا اور وہاں مٹی کے گھر بنا دیئے۔ دیکھتے ہی دیکھتے انسان پہلے غاروں سے مٹی اور پتھر سے بنے گھروں اور پھر محلوں میں رہنے لگا۔ پھر مزید ترقی ہوئی جہاں انسان مٹی کے برتن استعمال کرتا تھا وہاں سونے اور چاندی کے برتن استعمال ہونے لگے، پانی کے ذخیرے کے لئے ڈیمز تعمیر ہوئے اور روشنی کے لئے توانائی (بجلی، تیل، گیس، کوئلہ) سے بجلی تیار کی۔ پھرانسان نے اس بجلی کو استعمال میں لانے کے لئے ٹی وی، وی سی آر، فریج، ریڈیو، گیزر، ہیٹر، استری اور کمپیوٹر اور دیگر تیار کئے جن کا استعمال آج کل روز مرہ زندگی میںعام ہے۔ انسان نے یہ سب چیزیں تو بنا ڈالیں لیکن اس کی نظر اس جانب راغب نہیں ہوئی کہ ان آلات کی ایجادات کے ماحول پرکیا اثرات مرتب ہو رہے ہیں۔ آج ان آلات کا استعمال تو ہو رہا ہے مگر ان آلات کو استعمال کے بعد ضائع کرنا مشکل ہو گیا ہے کیونکہ ان کو ضائع کرنے سے جو گیسز خارج ہوتی ہیں وہ ماحول پر سخت منفی اثرات مرتب کرتی ہیں۔
Read more…

 
 Share on Facebook Share on Twitter Share on Reddit Share on LinkedIn
3 Comments  comments 
formats

موبائل بنکاری اور میّسرسہولیات

موبائل بینکاری سے مراد بیلنس چیک، کھاتے کی لین دین، ادائیگی، کریڈٹ ایپلی کیشنز اور دیگر بینکاری لین دین موبائل فون ڈیوائس کے ذریعے کرنا ہے، اسے ایم بینکاری یا ایس ایم ایس بینکاری بھی کہا جاتا ہے1999 ءمیں دنیا میں سب سے پہلے یورپی بینکز نے موبائل بینکاری کی پیشکش اپنے صارفین کی سہولیات کے لئے موبائل ایس ایم ایس کے ذریعے شروع کی۔ موبائل بینکاری نے سال 2010ء میں مزید بہتر کارکردگی کامظاہرہ کیا ہے۔ موبائل فون کمپنیز اور انٹرنیٹ سرچ انجن جیسے آئی فون اور گوگل نے موبائل بینکاری کے فروغ کے لئے موبائل ایپلی کیشنز بنانا شروع کر دی ہیں۔
موبائل بینکاری کی آمد کے بعد چھوٹے پیمانے پر بینکاری کے متعدد نئے ادارے کھل گئے ہیں جس سے بینکاری کا فروغ ہو رہا ہے۔ موبائل بینکاری کی بدولت صارفین کو ٹیکسز کی مد میں ادائیگی بھی کم کرنی پڑتی ہے۔ گزشتہ چند سالوں کے دوران موبائل اور وائرلیس مارکیٹ دنیا میں تیزی ترقی کرنے والی مارکیٹس میں سے ایک ہے اور اس کی رفتار میں آنے والے دنوں میں مزید تیزی آئے گی۔ ایک مالیاتی مشاورتی ادارے کی رپورٹ کے مطابق 2010ء میں دنیا بھر میں آن لائن سروسز استعمال کرنے والوں کا 35 فیصد موبائل بینکاری کا استعمال کر رہا تھا جبکہ اب اس میں مزید ایک فیصد اضافہ ہو چکا ہے۔ ایشیائی ممالک جیسے بھارت، چین، بنگلہ دیش، انڈونیشیااور فلپائن جہاں موبائل بنیادی ڈھانچے فکسڈ لائن کے بنیادی ڈھانچے کے مقابلے میں نسبتا بہتر ہے میں موبائل بینکاری کامیابی سے جاری ہے۔
Read more…

 
 Share on Facebook Share on Twitter Share on Reddit Share on LinkedIn
6 Comments  comments 
formats

بچوں میں سائنس و ٹیکنولوجی کا شعور

سائنس و ٹیکنولوجی کے میدان میں ترقی ہر ملک کے لئے ضروری ہے اور اس کے لئے ہماری نوجوان نسل خصوصاً بچوں میں سائنس و ٹیکنولوجی کا شعور بیدار کرنے کی اشد ضرورت ہے۔ بچوں کو جو کچھ شروع سے سمجھایا جاتا ہے اور جو کچھ وہ دیکھتے ہیں وہ بھی ویسا ہی کرنے کی کوشش کرتے ہیں۔ہر انسان کا مستقبل میں بچپن اور جوانی کے اثرات اور تجربات سے گہرا تعلق رکھتا ہے۔ اگر بچوں کو سائنس و ٹیکنولوجی کے ماحول میں رکھا جائے جہاں وہ روزانہ سائنسی تجربات سے ہمکنار ہوتے ہوں تو وہ ان چیزوں میں دلچسپی لیں گے اور اس طرح بچوں میں سائنس کا شعور پیدا ہوگا۔ ان بچوں کی تربیت ایسے ماحول میں کی جائے جہاں ان کا جوش وجذبہ سائنس وٹیکنولوجی سے وابسطہ ہو تو ملک میں تقریباً ہر دو سے چار دن میں ایک نئی ایجاد سامنے آئے گی۔

سائنس کو اردو میں علم کہتے ہیں اور علم کا مطلب ہوتا ہے جاننا یا آگہی حاصل کرنا، اپنے اردگرد کے ماحول کا مشاہدہ کرنا، مختلف قدرتی چیزوں کے بارے میں سوچنا اور پھر اس پر تجربہ کرنے والے کو سائنسدان کہتے ہیں یعنی سائنسدان وہ ہوتا ہے جو مشاہدہ کرتا ہے اور سوچ کر کوئی نتیجہ اخذ کرتا ہے۔ یہ سب کچھ بچے تو بڑی آسانی سے کر سکتے ہیں اور آج کل کے بچے تو دیکھتے ہی دیکھتے بڑی بڑی چیزیں بنا لیتے ہیں۔ بچوں میں سائنس و ٹیکنولوجی کا شعور بیدار کر کے ہم متعدد ایجادات کو حاصل کر سکتے ہیں۔

Read more…

 
 Share on Facebook Share on Twitter Share on Reddit Share on LinkedIn
7 Comments  comments 
formats

ڈاکٹر سلیم الزماں صدیقی ایک عہد ساز سائنسدان

وطن عزیز پاکستان کو خدا تعالیٰ نے بے شمار نعمتوں سے نوازا ہے ان میں سے ایک نعمت ملک کی عوام میں موجود بے پناہ ذہانت اور ہنر ہے۔ ڈاکٹر عبدالقدیر، ڈاکٹر ثمر مبارک مند، حکیم محمد سعید شہید اور دیگر کا تعلق اسی ارض پاک سے ہے جن کی صلاحیتوں اور قابلیتوں کا ایک زمانہ معترف ہے۔ ان تمام افراد کے بارے میں جان کر اندازہ ہوتا ہے کہ یہاں ذہانت، صلاحیت اور قابلیت کی کمی نہیں۔ اس وقت میں جس عظیم اور قابل ہستی کا تذکرہ کرنے لگا ہوں ان کا نام مرحوم ڈاکٹر سلیم الزمان صدیقی ہے اور یہ وہ قابل انسان تھے جنہوں نے نہ صرف پاکستان و ہندوستان بلکہ دنیا بھر میں اپنے سائنسی تجربات کا لوہا منوایا۔ پاکستان ان ہی کی بدولت سائنسی اور صنعتی تحقیق کے راستے پر گامزن ہوا۔

Read more…

 
 Share on Facebook Share on Twitter Share on Reddit Share on LinkedIn
5 Comments  comments 
formats

کاربن کریڈٹ ماحول کا تحفظ بھی کاروبار بھی

Published on October 10, 2011 by in Environment

کاربن کریڈٹ سے مراد ایک معاہدہ ہے جس کی رو سے ایک ملک دوسرے ملک کو ایک ٹن کاربن ڈائی آوکسائیڈ تک خارج کرنے کی اجازت دیتے ہیں اور اس ہدف سے کم کاربن ڈائی اوکسائیڈ کے اخراج پر کریڈٹ دیا جاتا ہے۔ یہ کریڈٹ کسی بھی ملک کی انتظامیہ ہی نہیں بلکہ عام کسان اور صنعت کار بھی کم کاربن ڈائی اوکسائیڈ یا گرین ہاﺅس گیسز کے اخراج کے ذریعے حاصل کر سکتے ہیں۔ اس کاربن کریڈٹ کو دینے کا مقصد دنیا بھر میں کاربن ڈائی اوکسائیڈ اور ماحول پرمنفی اثرات مرتب کرنے والی دیگر گیسز پر قابو پانا ہے۔ کاربن کریڈٹ ایک ایسی چیز ہے جس میں آلودگی کو خریدا اور بیچا جاتا ہے۔

اقوام متحدہ کی رپورٹ کے مطابق دنیا میں کاربن ڈائی آوکسائیڈ کے اخراج میں سب سے زیادہ حصہ امریکہ، چین، بھارت، روس، جاپان، بھارت، جرمنی، برطانیہ، کینیڈا، جنوبی کوریا اور اٹلی کاہے۔وطن عزیز پاکستان خدا کے فضل و کرم سے ان ممالک میں شامل کیا جاتا ہے جو کاربن ڈائی اوکسائیڈ یا گرین ہاﺅس گیسز کا کم اخراج کرتے ہیں۔پاکستان کے مقابلے میں بھارت گیسزکا اخراج زیادہ کرتا ہے۔ پاکستانی صنعتکار اپنی صنعتوں کے عالمی سطح سے کم کاربن اخراج کے ذریعے ترقی یافتہ ممالک سے کاربن کریڈٹس حاصل کر سکتے ہیں۔
Read more…

 
 Share on Facebook Share on Twitter Share on Reddit Share on LinkedIn
5 Comments  comments 
formats

کسان، زراعت اور مسائل

Published on October 4, 2011 by in Agriculture

زراعت پاکستان کے لئے ایک جڑ کی حیثیت رکھتی ہے، ملک کی 60 فیصد سے زائد آبادی زراعت کے شعبے سے وابستہ ہے۔ ملکی زرمبادلہ میں زراعت کا حصہ بائیس فیصد ہے۔ پاکستان میں پیدا ہونے والی کپاس، گندم، گنا اور چاول کی فصل بیرونی منڈیوںمیں خاص اہمیت رکھتی ہے اور ملک ان فصلوں کی بدولت قیمتی زرمبادلہ حاصل کرتا ہے۔ اس کے باوجود ملکی زرعی شعبے کی ترقی کی رفتار نہایت سست ہے۔ ہمارے مقابلے میں دنیا کے دیگر ملک زیادہ پیداوار دے رہے ہیں۔ اگر زرعی ترقی میں حائل رکاوٹوں پر غور کیا جائے تو کئی وجوہات سامنے آتی ہیں۔ہمارے کسان مہنگائی کے بوجھ تلے پھنسے جارہے ہیں، کھاد نہ صرف مہنگی ہو رہی ہے بلکہ کاشت کے دنوں میں ناپید ہو جاتی ہے، دیگر زرعی لوازمات بھی ڈیزل Read more…

 
 Share on Facebook Share on Twitter Share on Reddit Share on LinkedIn
6 Comments  comments 
formats

پاکستان صنوبر کے جنگلات کا دوسرا بڑا ذخیرہ

Published on September 25, 2011 by in Environment

درخت اور سبزہ خدا کا دیا ہو وہ تحفہ ہیں جسے دیکھ کر انسان کی طبیعت خوشگوار اور دل کو راحت و سکون محسوس ہوتا ہے۔ درخت و سبزہ خوبصورتی و شادابی کا وہ منظر ہیں جس کا کوئی نعم البدل نہیں ملتا۔ دنیا میں جنگلات کی شرح 25، 30، 35 اور40 فیصد تک ہے جبکہ پاکستان میں یہ رقبہ چار اعشاریہ دو دو چار ملین ہیکٹر پر مشتمل ہے جو کل رقبہ کاصرف 5 فیصد ہے اور اسے بڑھانے کی ہر ممکن کوشش کی جارہی ہے۔ پاکستان کے پہاڑی سلسلوں میںلگے الپائن، سب الپائن، جونیپر، سفیدہ اور دیودار کے اونچے اونچے درختوں خوبصورتی و حسن کا ایک الگ منظر پیش کرتے ہیں۔ پاکستان میں 5 ہزار 7 سو اقسام کے پودے، درخت اور جنگلات پائے جاتے ہیں۔ صرف چترال، کشمیر اور شمالی بلوچستان میں ہی 203 اقسام کے پورے اور درخت پائے جاتے ہیں جو ملک بھر کے کل درختوں کا چار فیصد ہیں۔ نسبتاً کم بلند ہمالیائی سلسلوں میں بارش زیادہ ہوتی ہے اور اسی سبب یہاں دیودار، پائن، گل لالہ اور شاہ بلوط یا بید مجنوں کے گھنے جنگلات کی بھرمار ہے۔
Read more…

 
 Share on Facebook Share on Twitter Share on Reddit Share on LinkedIn
7 Comments  comments 
formats

ستمبر16، اوزون کا عالمی دن

Published on September 19, 2011 by in Environment

اوزون سورج کے گرد وہ تہہ ہے جو کہ سورج کی خطرناک الٹراوائلٹ بی شعاعوں کو نہ صرف زمین کی طرف آنے سے روکتی ہے بلکہ زمین پر اس کے نقصان دہ اثرات کا خاتمہ کرتی ہے۔ اوزون اوکسیجن کے تین ایٹمز کے ساتھ ایک شفاف اور نظر نہ آنے والی گیس ہے جو قدرتی طور پر فضا میں موجود ہوتی ہے۔ اوزون کی نوے فیصد مقدار زمین کی سطح سے پندرہ تا پچپن کلومیٹر اوپر بالائی فضا میں پائی جاتی ہے۔ مگر 1970ء کی دھائی میں یہ انکشاف ہوا کہ انسانوں کے بنائے ہوئے کچھ مرکبات اوزون کی اس تہہ کو تباہ کررہے ہیں۔ یہ کیمیائی مرکبات کلوروفلور وکاربن(سی ایف سی) کہلاتے ہیں جو کہ سردخانہ اور ایروسول اسپرے میں استعمال ہوتے ہیں۔ اوزون تہہ میں شگاف کے باعث الٹراوائلٹ بی شعاعیں زمین پر پڑتی ہیں اورزمینی حیاتیات کو جلدی امراض میں مبتلا کر دیتی ہیں، اس کے علاوہ دیگر ماحولیاتی تبدیلیاں بھی اسی کے باعث ہو رہی ہیں۔ 1974ء میں امریکی ماہرین ماحولیات نے اوزون کی تہہ کے تحفظ سے متعلق آگاہی کی ضرورت پر زور دیتے ہوئے واضح کیا اوزون کی تہہ کے خاتمے کی صورت میں نہ صرف دنیا بھر کا درجہ حرارت انتہائی حد تک بڑھ جائے گا بلکہ قطب جنوبی میں برف پگھلنے سے چند سالوں میں دنیا کے ساحلی شہر تباہ ہو جائیں گے۔

Read more…

 
 Share on Facebook Share on Twitter Share on Reddit Share on LinkedIn
6 Comments  comments 
formats

چقندر اور اسکے فائدے

Published on September 16, 2011 by in Agriculture

چقندر ایک ایسی فصل ہے جس کا استعمال متعدد اشیاءکی تیاری میں کیا جاتا ہے۔ چقندر کی چار اقسام ہوتی ہیں، ایک قسم چینی نکالنے کے لئے جبکہ باقی سبزی کے طور پر استعمال ہوتی ہیں۔ چقندر کی کاشت سولہویں صدی میں یورپ سے شروع ہوئی۔ اس اہم سبزی نے دنیا میں جلد ہی ایک اہم مقام حاصل کر لیا اور یہ سب کچھ ایک نہایت قلیل عرصہ میں سائنسی علوم کی بدولت ہوا ۔ 1747ء میں ایک جرمن ماہر کیمیا دان اینڈریز سگمنٹر مارگراف نے معلوم کیا کہ چقندر کی قسم میں گنے کی جیسی چینی پائی جاتی ہے۔ اس نے اپنی تحقیق کے بعد چینی کی مقدار کو حاصل کرنے کا طریقہ اور اسکی کاشت کی مختلف اقسام کے بارے میں بتایا لیکن تب اس تحقیق کا کوئی خاص فائدہ نہ اٹھایا گیا۔اٹھارویں صدی کے آخری عشرے میں ریکارڈو چقندر سے چینی نکالنے میں کامیاب ہو گیا اور اس نے اس چینی کو بیٹ شوگر کا نام دیا جو بعد میں شوگر بیٹ کے نام سے مشہور ہوا۔ ریکارڈو کے کامیاب تجربے کے بعد جرمنی کے شہنشاہ جرمنی فریڈرک ولیم سوم کی مدد سے جرمنی کے شہر کنرن میں چقندر کی چینی کا پہلا کارخانہ قائم کیا گیا۔
Read more…

 
 Share on Facebook Share on Twitter Share on Reddit Share on LinkedIn
6 Comments  comments 
formats

ہماری زندگی پر ٹیکنولوجی کے اثرات

ٹیکنولوجی دنیا میں آئی اور اس نے انسان کو اپنا عادی بنا لیا، اب انسان ٹیکنولوجی کا عادی ہو چکا ہے اور اس کے بنا نہیں رہ سکتا۔ انسان ہمیشہ سے اپنے لئے آسانی ڈھونڈتا رہا ہے اور اس مقصد کے لئے طرح طرح کی نئی ٹیکنولوجی تیار کر لی۔ہماری زندگی میں ایجادات کا سلسلہ جاری ہے روزانہ بیسیوں چیزیں ایسی دیکھنے میں آتی ہیں جنہیں دیکھ کر انسان دنگ رہ جاتا ہے۔ زندگی کے مختلف شعبہ جات مثلاً زراعت، توانائی، تجارت، سفر اور رابطوں کے لئے ٹیکنولوجی نہایت اہم کردار ادا کر رہی ہے۔وقت گزرنے کے ساتھ ساتھ بہتر زرعی پیداوار کے لئے زرعی مشینری، توانائی کے حصول کےلئے جدید نیوکلر، شمسی اور ہوا کی توانائی کا استعمال شروع کر دیا گیا ہے۔انسان نے زمین سے اپنے سفر کا سلسلہ گھوڑے اور خچر سے شروع کیا اور اب جدید دور میں گاڑی، ریل گاڑی اور ہوائی جہاز پر سفر کر رہا ہے۔جدید دور کے انٹرنیٹ نے برقی پیغامات یعنی ای میل اور چیٹ کے ذریعے پیغام رسانی کو آسان بنا دیا ہے اور اس طرح انسانوں کے درمیان دوریاں ختم ہو گئی ہیں۔ انسان دنیا میں کہیں بھی بیٹھا ہو، اپنے کسی بھی عزیز سے ای میل اور چیٹنگ اور وائس چیٹ کے ذریعے بات چیت کر سکتا ہے۔
Read more…

 
 Share on Facebook Share on Twitter Share on Reddit Share on LinkedIn
6 Comments  comments 
formats

جنیاتی علوم اور انسانی زندگی

خدا نے ہر چیز کا ایک نظام بنایا ہے، سب چیزیں اسی نظام کے تحت چل رہی ہیں۔ سائنسدان گزشتہ کئی سالوں سے اس بات کی تحقیق کر رہے ہیں کہ انسان آخر کیسے وجود میں آیا اور یہ کیسے جی رہا ہے؟ ڈی این اے کی دریافت اور تحقیق نے یہ ثابت کر دیا کہ زندہ اشیا ایسی مکمل اور پیچیدہ ترتیب و ترکیب کا مرکب ہیں کہ یہ حادثاتی طور پر کسی اتفاق کے تحت وجود میں نہیں آسکتیں جب تک یہ کسی بڑے ماہر اور قادر مطلق بنانے والے کی کارگزاری نہ کہی جائے۔ اگر کسی مقام پر اینٹ، پتھر، گارا، مٹی، قالین، ایرکنڈیشنر، ٹی وی اور ریفریجریٹر اور دیگر سامان موجود ہو اور پھر اچانک ایک حادثہ یا اتفاقی واقعہ ایسا ہوجائے کہ یہ سب مل کر بادشاہ سلامت کا محل بن کر ابھر آئے، یہ جادو کی کہانی تو ہوسکتی ہے ایک سائنسی حقیقت کبھی نہیں ہوسکتی۔ ڈی این اے میں چھپے ہوئے اربوں کیمیائی حروف کوجان کر انسان کو اندازہ ہوا کہ ہر انسان کی الگ معلومات ہیں اور وہ جنوم میں ان کوڈ ہوتی ہیں Read more…

 
 Share on Facebook Share on Twitter Share on Reddit Share on LinkedIn
7 Comments  comments 
formats

ڈیری فارمنگ اور وسائل کی کمی

Published on August 21, 2011 by in Agriculture

پاکستان ڈیری فارمنگ کے لحاظ سے دنیا میں ایک اہم مقام رکھتا ہے، وطن عزیز پاکستان میں ڈیری فارمنگ  میں سرمایہ کاری کے وسیع مواقع موجود ہیں۔دودھ کی بہترین پیداوار دینے والے ممالک میں ہندوستان، چین اور امریکہ کے بعد چوتھے نمبر پر پاکستان کا نام شمار کیا جاتا ہے۔پاکستان میں جن جانوروں سے دودھ حاصل کیا جاتا ہے ان میں، بھینسیں، بھیڑیں، بکریاں اور اونٹ شامل ہیں۔ قدرت نے ہمارے ملک کو اعلیٰ نسل کی بھینسوں اور گائیوں کی دولت سے نوازا ہے جس کا فائدہ اٹھاتے ہوئے ہم سبز انقلاب برپا Read more…

 
 Share on Facebook Share on Twitter Share on Reddit Share on LinkedIn
3 Comments  comments 
formats

مرکری کے فوائد و نقصانات۔۔۔۔۔۔ حصہ آخر

Published on August 14, 2011 by in Environment

مرکری کا استعمال تیزی سے بڑھ رہا ہے، متعدد اشیاءخاص کر تھرما میٹر میں اس کا استعمال پوری دنیا میں عام ہے۔ مرکری کا جیسے جیسے استعمال بڑھتا جا رہا ہے اس کے نقصانات کا بھی اندازہ ہو رہا ہے۔ مرکری انسانی زندگی کے لئے سخت نقصان دہ ہے۔ اس کے نقصان دہ ہونے کی سب سے بڑی وجہ یہ ہے کہ یہ پانی میں حل نہیں ہوتا۔

مرکری کو مٹی میں دبا دیا جائے اور پھر نکالا جائے تو یہ ویسا ہی ہو گا جیسے اس کو رکھا گیا یعنی اس پر کسی بھی قسم کا کوئی فرق نہیں پڑتا جیسا کہ لوہا یا دوسری چیزیں مٹی میں گل سڑ جاتی ہیں۔ اس بات سے اندازہ لگایا جا سکتا ہے کہ مرکری کا دواﺅں میں استعمال انسانی جان کے لئے کتنا تباہ کن ہے۔

Read more…

 
 Share on Facebook Share on Twitter Share on Reddit Share on LinkedIn
8 Comments  comments 
© Copyrights of Technology Times 2012.
credit